شرعی سوال و جواب

سامان منزل تک پہنچانے کے بعد اس میں ہونے والے نقصان کا حکم

سامان منزل تک پہنچانے کے بعد اس میں ہونے والے نقصان کا حکم


سوال

میں نے کئی چیزیں کرایہ پر پہنچانے کے لیے لی تھیں اور اس کو  منزل مقصود تک یعنی دو یا تین کلومیٹر کے فاصلے پر کسی گودام میں  پہنچا کررکھ دیا اور مالک کو کہا اپنے سامان کو اٹھا لو اور مالک اس کے اٹھانے کی کوشش میں لگ گیا اور میں وہاں سے چلاگیا دو تین گھنٹے بعد وہ مال یا سامان چور لےگئےیا ہلاک ہوگیا، تو اب اس صورت میں اس گودام تک میرے کرایہ کا حق بنتا ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائل سے کرایہ کا معاملہ صرف سامان گودام تک پہنچانے کا ہواتھا، اور سائل نے سامان وہاں پہنچا دیا تو سائل اجرت کا حق دار ہوگیا۔ بعد میں وہاں سامان کو نقصان پہنچا تو سائل اس کا ذمہ دار نہیں اور نہ اس وجہ سے سائل کی اجرت میں کوئی کمی کرنا یا روکنا جائز ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

“إن استأجره ليحمله إلى موضع كذا …. يجبر على أن يحمل إلى المكان الذي شرط فإذا حمل يستوفي جميع الأجرة…”

(كتاب الإجارة،الباب الثاني متى تجب الأجرة وما يتعلق به من الملك وغيره،4/ 413،ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


اجارہ
اجیر عام کے احکام
2025-09-24 23:03:54

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔