شرعی سوال و جواب
سدید نام رکھنا
سوال
میں اپنے بیٹے کا نام سدید رکھنا چاہتا ہوں، کیا یہ شرعی طور پر جائز ہے؟
جواب
’’سَدِید‘‘ کے معنی درست ، مضبوط اور پختہ کے ہیں، مذکورہ نام رکھنا درست ہے ۔
تفسیر روح المعانی میں ہے :
’’والسديد – على ما قال الطبرسي – المصيب العدل الموافق للشرع. وقيل : ما لا خلل فيه ، ويقال سدّ قوله يسدّ بالكسر إذا صار سديدا ، وأنه ليسد في القول فهو مسدّ إذا كان يصيب السداد أي القصد ، وأمر سديد وأسد أي قاصد.‘‘
(ج:2،ص:424۔ط:دارالکتب العلمیہ بیروت)
المحکم والمحیط الاعظم میں ہے :
’’والسديد والسداد الصواب من القول ورجل سديد وأسد من السداد وقصد الطريق.‘‘
(ج:8،ص:403،ط:دارالکتب العلمیہ بیروت)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
حظر و اباحت
ناموں کے معانی اور احکام
2025-10-12 14:59:39
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
