شرعی سوال و جواب
سرکاری زمین پر چھجا، بالکونی نکالنے کا حکم
سوال
علماءِ کرام کیا فرماتے ہیں سرکاری گلی میں پہلی منزل پر لوگ چار پانچ فٹ کا چھجا یعنی بالکونی نکال لیتےہیں، کیا یہ درست ہے؟
جواب
اگر چھجا نکالنے سے کسی کو کوئی نقصان نہ ہو اور حکومت کی طرف سے اس پر کوئی ممانعت بھی نہ ہو، تو سرکاری راستہ پر یازمین پرچھجانکالنا جائز ہے۔ اگر قانون کی رو سے مخصوص مقدار میں چھجا نکالنے کی اجازت ہو تو اس سے زیادہ مقدار کی اجازت نہیں ہوگی۔
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
“إذا أراد رجل إحداث ظلة في طريق العامة، وذلك لا يضر بالعامة فالصحيح من مذهب أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – أن لكل واحد من آحاد المسلمين حق المنع وحق الطرح۔۔۔ وهل يباح إحداث الظلة على طريق العامة ذكر الطحاوي – رحمه الله تعالى – أنه يباح، ولا يأثم قبل أن يخاصمه أحد، وبعد المخاصمة لا يباح الإحداث والانتفاع، ويأثم بترك الظلة كذا في الفصول العمادية.”
(كتاب الجنايات،الباب الحادي عشر في جناية الحائط والجناح والكنيف،ج:6،ص:36،ط:دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
حقوق و آدابِ معاشرت
عام مسلمانوں کے حقوق
2025-10-17 17:31:06
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
