شرعی سوال و جواب

سنار کا مردوں کو سونے کی اشیاء بنا کر دینے کا حکم

سنار کا مردوں کو سونے کی اشیاء بنا کر دینے کا حکم


سوال

سونا مرد پر حرام ہے ، ہم دوکاندار ہیں ،گاہک(مرد) ہم سے انگوٹھی یا کوئی اور چیز اپنے استعمال کے لیےبنواتا ہے تو ہمارا کام ہے گاہک کو چیز بنا کر دینا تو اس میں (دوکاندار) تو گناہ گار نہیں ہوگا ؟

جواب

واضح رہے کہ  مردوں کو سونا بیچنا جائز ہے ،ہاں اگر یہ بات معلوم ہو کہ یہ مرد اپنے استعمال کے لیے ہی بنوا رہا ہے  تو    یہ معصیت   پر   اعانت  کی وجہ سے مکروہ ہوگا ۔

فتاوی شامی میں ہے:

“وبيع المكعب المفضض للرجل إن ليلبسه يكره، لأنه إعانة على لبس الحرام وإن كان إسكافا أمره إنسان أن يتخذ له خفا على زي المجوس أو الفسقة أو خياطا أمره أن يتخذ له ثوبا على زي الفساق يكره له أن يفعل لأنه سبب التشبه بالمجوس والفسقة اهـ۔”

(کتاب الحظر والاباحۃ،ج:6،ص:392،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حظر و اباحت
سونے وغیرہ کی مصنوعات
2025-10-08 06:51:31

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔