شرعی سوال و جواب
سنتوں ميں فاتحہ كے بعد سورة چهوڑنے كا حكم
سوال
سنت نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنے سے ہی نماز پوری ہوگی؟
جواب
واضح رہے کہ فرض نمازوں کی پہلی دورکعتوں اورسنن ونوافل کے تمام رکعتوں میں مطلق قراءت کرنا فرض ہے جب کہ سورۃ الفاتحہ کے بعد تین چھوٹی آیات کے بقدر قراءت کرناواجب ہے؛لہٰذا اگر سورۃ الفاتحہ کی بعد والی قراءت سہواًچھوٹ جائےتوسجدہ سہو کرناضروری ہوتا ہے،جس سے نقصان کی تلافی ہوجاتی ہے۔
مجمع الانہر میں ہے:
“(وواجبها) أي واجب الصلاة الذي لا يلزم فسادها بتركه وإنما يلزم الإثم إن كان عمدا وسجدتي السهو إن كان خطأ (قراءة الفاتحة) فلا تفسد الصلاة بتركها عندنا…(وضم) مقدار (سورة) من آية طويلة أو ثلاث آيات قصار إلى الفاتحة فلا تفسد الصلاة بتركها بل يجب سجود السهو إن تركها ساهيا كما تقرر آنفا.”
(کتاب الصلوۃ، واجبات الصلوۃ، ج:1، ص:77، ط:المطبعة العامرة)
فقط والله اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
نماز
نماز میں قراءت کی فرضیت اور فرض مقدار
2025-10-08 07:29:00
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
