شرعی سوال و جواب

سوتیلے باپ کی دوسری بیوی اور اس کی بیٹیاں نا محرم ہیں

سوتیلے باپ کی دوسری بیوی اور اس کی بیٹیاں نا محرم ہیں


سوال

حضرت میری دو بیٹیاں ہیں پہلی بیوی سے اور اب میں نے ایک طلاق یافتہ عورت سے شادی کی ہے جس کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ جناب میرا سوال یہ ہے کہ کیا میری دوسری بیوی کا بیٹا میری پہلی بیوی اور پہلی بیوی سے میری بیٹیوں کے لیے محرم ہے یا نا محرم؟

جواب

 آپ کی پہلی بیوی اور اور اس کی بیٹیوں کا  آپ کی دوسری بیوی کے سابقہ شوہر کے بیٹے سے پردہ ہے،وہ آپ کی پہلی بیوی اور بیٹیوں کے لیے نامحرم ہے۔

البسوط للسرخسی میں ہے:

“وكذلك لا بأس بأن يتزوج المرأة ويزوج ابنه أمها أو ابنتها فإن محمد بن الحنفية – رضي الله تعالى عنه – تزوج امرأة وزوج ابنتها من ابنه، وهذا لأن بنكاح الأم تحرم الأم هي على ابنه، فأما أمها وابنتها تحرم عليه لا على ابنه فلهذا جاز لابنه أن يتزوج أمها أو ابنتها، والله سبحانه وتعالى أعلم بالصواب وإليه المرجع والمآب.”

(کتاب النکاح،ج4،ص211،ط؛دار المعرفہ)

کفایت المفتی میں ہے:

“سوتیلے باپ کی دوسری بیوی سے نکاح کا حکم:

جواب:زید اپنی ماں کی سوکن یعنی سوتیلے باپ کی دوسری بیوی سے نکاح کرسکتا ہے۔کیونکہ وہ اس کے محرمات میں داخل نہیں ہے۔ـ”

(کتاب النکاح،ج5،ص35،ط؛دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


نکاح
غیر محرمات
2025-10-17 22:30:01

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔