شرعی سوال و جواب
سونے کے زیورات آڈر پر بنانا اور قیمت ایڈوانس لینا
سونے کے زیورات آڈر پر بنانا اور قیمت ایڈوانس لینا
سوال
گاہک میرے پاس ایک تولہ سونا بنوانے آیا ، گاہک نے موجودہ ریٹ کے مطابق پیسے دے دیے، مثلاً 285000 ریٹ ہے، اس نے285000ادا کر دئیے ایک تولہ کے ، لیکن جو ہم نے زیور بنانے ہیں ، اس میں کم از کم وقت 1ہفتہ لگتا ہے ، ہم نے پیسے لے لئے اور زیور ایک ہفتہ بعد دئیے ، ایسا طریقہ جائز ہے یا نا جائز ؟
جواب
واضح رہے کہ سونے کے زیورات کی سونے یانقدرقم کے بدلے فروخت ’’بیع صر ف کہلاتی ہے‘‘جس کے شرعًا جائزہونے کے لیے ضروری ہے کہ معاملہ دونوں جانب سے نقدہو۔ ادھارکی صورت میں یہ معاملہ ناجائزہوگا۔
لہذا صورت مسئولہ میں سونے یا چاندی کا زیور تیار ہونے سے قبل اس کا حتمی سودا کرکے قیمت لے لینا اور زیور بعد میں تیار کر کے دینا جائز نہیں ہے، اس صورت میں مبیع ادھار ہو جائے گی اور بیع صرف میں ادھار جائز نہیں ہے، دونوں جانب سے معاملہ نقد ہونا ضروری ہے۔
اس کی جائزصورت یہ ہوسکتی ہے کہ پیشگی زرضمانت لے کر مطلوبہ زیورتیارکیاجائے ،جب زیورات تیار ہوجائیں، تو دکاندار گاہگ کو اس کی رقم واپس کردے اور پھر ایک مجلس میں رقم اور سونے کا نقد تبادلہ کرکے حتمی سودا کرلیا جائے۔
نیز اس صورت میں آرڈر لیتے وقت زیور کی بناوٹ پر جتنی لاگت آئےگی اس کے حساب سے اس کا ریٹ بھی متعین کر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
”(ويشترط) عدم التأجيل والخيار و (التماثل) -أي التساوي وزنا (والتقابض) بالبراجم لا بالتخلية (قبل الافتراق) وهو شرط بقائه صحيحا على الصحيح (إن اتحد جنسا وإن) وصلية (اختلفا جودة وصياغة) لما مر في الربا (وإلا) بأن لم يتجانسا(شرط التقابض) لحرمة النساء.”
(کتاب البیوع، باب الصرف، ج:5، ص،258، ط:دار الفکر)
شرح المجلہ میں ہے:
”كل شيء تعومل استصناعه يصح فيه الاستصناع على الإطلاق.”
(کتاب البیوع، الفصل الرابع في بیان الاستصناع، المادۃ:389، ص:76، ط:كارخانه تجارت كتب)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
