شرعی سوال و جواب

شادی میں دولہن کو کالی پوت کا لچھا دینا

سوال

كيا شادی میں دولہن کو کالی پوت کا لچھا دینا جائز ہے؟

جواب

 کالی پوت کا لچھا (جو منگل سوتر بھی کہا جاتا ہے) در اصل ہندوانہ زیور ہے، اور غیر مسلم خواتین یہ زیور اپنے خاص اعتقادات وتوہمات کے ساتھ پہنتی ہیں، اور یہ در اصل ان کے یہاں شادی کے موقعہ پر پہنایا جاتا ہے، اور ان کا پنڈت اِس زیور پر کچھ پڑھ کر دم بھی کرتا ہے،اس میں غیروں کی مشابہت ہے، لہٰذا مسلم خواتین کو کالی پوت کا لچھا  پہنناجائز نہیں ہے، اور نہ ہی دولہن کو دینا جائز ہے۔

سنن أبي داؤدمیں ہے:

“عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ”من تشبہ بقوم فہو منہم“ .

( کتاب اللباس، الفصل الثاني،ص:375،ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حظر و اباحت
سونا چاندی کے علاوہ زیورات
2025-10-12 14:35:48

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔