شرعی سوال و جواب
شناختی کارڈ یا کسی بھی سرٹیفکیٹ میں حقیقی ماں کے بجائے سوتیلی ماں کا نام لکھوانا جائز ہے یا نہیں؟
شناختی کارڈ یا کسی بھی سرٹیفکیٹ میں حقیقی ماں کے بجائے سوتیلی ماں کا نام لکھوانا جائز ہے یا نہیں؟
سوال
شناختی کارڈ یا کسی بھی سرٹیفکیٹ میں حقیقی ماں کے بجائے سوتیلی ماں کا نام لکھوانا جائز ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
جواب
شناختی کارڈ يا کسی بھی سر ٹیفکیٹ میں حقیقی ماں کے بجائے سوتیلی ماں کا نام درج کرانا جھوٹ ،دھوکا دہی اورخلاف حقیقت ہے جو کہ ناجائزہے ۔
مارواہ الإمام أحمد في مسنده:
“حدثنا وكيع قال: سمعت الأعمش قال: حدثت عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب.”
(ج:36،ص:504،رقم الحدیث:22170،ط:مؤسسة الرسالة)
ترجمہ:” حضرت ابی امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن ہر خصلت پر ڈھل سکتا ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے”۔
فقط والله أعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
حظر و اباحت
متفرقات ممنوعات و مباحات
2025-10-17 17:47:11
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
