شرعی سوال و جواب

شوہر کا بیوی سے تم آزاد ہو کہنے کا حکم

سوال

شوہر نے بیوی کو واٹس ایپ میسج پر لکھا تھا: بیٹھو میری طرف سے u are free۔ u can marry someone better.ترجمہ”تم آزاد ہو، تم کسی بہتر شخص سے شادی کر سکتی ہو۔”  یہاں (یعنی میرے گھر) نہیں آنا میں مار ڈالونگا ۔ شوہر کا کہنا ہے کہ اس کی طلاق کی نیت نہیں تھی جس کے لیے وہ قسم بھی اٹھا رہا ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر واقعۃً شوہرنے بیوی کوواٹس ایپ میسج پر لکھا :کہ ” u are free۔ u can marry someone better.ترجمہ  “میر ی طرف سےتم آزاد ہو، تم کسی بہتر شخص سے شادی کر سکتی ہو۔” یہاں (یعنی میرے گھر) نہیں آنامیں مار ڈالونگا“ تو اس  سےاس کی بیوی پر  ایک طلاق بائن واقع ہوگئی  اور نکاح ختم ہو گیا،اگرچہ شوہر نے طلاق کی نیت بھی نہ کی ہو ،کیوں کہ ہمارے عرف میں لفظ ’’آزاد‘‘ طلاق کا لفظ ہے اور اس مقصد کے لیے بالکل صریح ہے،لہذا اس میں نیت کی ضرورت نہیں ۔

فتاوی شامی میں ہے:

“وقد مر أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحا كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية مع أن المنصوص عليه عند المتقدمين توقفه على النية.”

(کتاب الطلاق، باب صریح الطلاق، ج:3، ص:252، ط:سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

“والأصل الذي عليه الفتوى في زماننا هذا في الطلاق بالفارسية أنه إن كان فيها لفظ لا يستعمل إلا في الطلاق فذلك اللفظ صريح يقع به الطلاق من غير نية إذا أضيف إلى المرأة، مثل أن يقول في عرف ديارنا: دها كنم أو في عرف خراسان والعراق بهشتم؛ لأن الصريح لا يختلف باختلاف اللغات وما كان في الفارسية من الألفاظ ما يستعمل في الطلاق وفي غيره فهو من كنايات الفارسية فيكون حكمه حكم كنايات العربية في جميع الأحكام والله أعلم.”

(کتاب الطلاق،فصل فی النیة، ج:3 ، ص:102، ط:دار الکتب العلمیة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

“ولو قال في حال مذاكرة الطلاق باينتك أو أبنتك أو أبنت منك أو لا سلطان لي عليك أو سرحتك أو وهبتك لنفسك أو خليت سبيلك أو أنت سائبة أو أنت حرة أو أنت أعلم بشأنك. فقالت: اخترت نفسي. يقع الطلاق وإن قال لم أنو الطلاق لا يصدق قضاء.”

(کتاب الطلاق،الفصل الخامس،ج:1،ص:375،ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم 


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


طلاق
وقوعِ طلاق
2025-10-19 22:35:21

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔