شرعی سوال و جواب

شوہر کی رضامندی کے بغیربیوی کا عدالت سے خلع لینا

شوہر کی رضامندی کے بغیربیوی کا عدالت سے خلع لینا


سوال

کیا بیوی کا شوہر کی  رضامندی کے بغیر عدالت سے خلع لے کر دوسری جگہ نکاح کرنا شرعا جائزہے؟

جواب

واضح رہے کہ خلع ایک مالی معاملہ کی طرح ہےجس طرح دیگر معاملات کے معتبر  اور درست ہونے کے لیے جانبین کی رضامندی شرعا ضروری ہوتی ہے اسی طرح  خلع کے معتبر اور درست  ہونے کہ لیے بھی عاقدین (میاں بیوی )  کی رضامندی شرعا ضروری ہوتی ہے، کوئی ایک فریق راضی ہودوسرا راضی نہ ہو تو ایسا خلع شرعا معتبر نہیں ہوتا   ۔

لہذا بیوی کا شوہرکی رضامندی کے بغیر عدالت سے یک طرفہ  خلع کی ڈ گری حاصل کر کے دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً درست نہیں ۔

بدائع الصنائع میں ہے :

“وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة، ولايستحق العوض بدون القبول.” 

(کتاب الطلاق، فصل في قبول العوض والخلع ج: 4 ص: 376 ط: دار النشر)

تبیین الحقائق میں ہے :

“ولا بدّ من قبولها؛ لأنه عقد ‌معاوضة أو تعليق بشرط فلا تنعقد المعاوضة بدون القبول، ولأن المعلّق ينزل بدون الشرط إذ لا ولاية لأحدهما في إلزام صاحبه بدون رضاه.”

(کتاب الطلاق ، باب الخلع ج: 3 ص: 189 ط: دارالکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


طلاق
خلع کی شرائط اور حکم
2025-10-12 14:41:31

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔