شرعی سوال و جواب
طلاق نامہ پڑھے بغیر طلاق دینے کا حکم
سوال
میرے بہنوئی کو ڈپریشن کی شکایت ہے، وہ ڈپریشن کی وجہ سے ادویات بھی استعمال کرتے رہیں ہیں، کچھ گھریلو مسائل کی بناء پر اسی ڈپریشن کی حالت میں ان پر ذہنی دباؤ اور حبس بے جا کے ذریعےان سے طلاق کے پیپرز پر سائن لیے گئے، جب کہ نہ تو انہوں نے طلاق کے پیپرز بنوائے، نہ انہوں نے طلاق نامہ پڑھا، نہ ہی انہیں معلوم تھا کہ اس طلاق نامے میں کتنی طلاقیں لکھی ہوئی ہیں اور وہ حلفیہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی طلاق دینے کی نہ تو کوئی نیت تھی اور نہ ہی کوئی ارادہ تھا، کیا اس صورتِ حال میں طلاق واقع ہوگئی یا نہیں؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ طلاق نامہ آپ کے بہنوئی نے نہیں بنایا اور نہ ہی پڑھا تھا، لیکن اسے یہ معلوم تھا کہ یہ طلاق نامہ ہے، لیکن اس میں موجود طلاقوں کی تعداد پتہ نہیں تھی تو اس پر دستخط کرنے کی وجہ سے اس کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی ہے، اب اگر اس کی بیوی ابھی تک عدت میں ہے (یعنی تین ماہواریاں مکمل نہیں ہوئی یا حمل سے ہے)تو نکاح کےبغیر رجوع کیا جا سکتا ہے اور اگر رجوع کیے بغیر عدت مکمل ہوچکی ہےتو نکاح ختم ہوچکا ہے، اب اگر دوبارہ ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو دوبارہ نکاح کرکے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں، اس کے بعد شوہر کو آئندہ کے لیے دو طلاقوں کا حق باقی رہے گا۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
“ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابة أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها، وإن لم يقر أنه كتابه ولم تقم بينة لكنه وصف الأمر على وجهه لا تطلق قضاء ولا ديانة، وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه.”
(كتاب الطلاق، ج:٣، ص:٢٤٦، ط:سعيد)
فقط والله أعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
طلاق
طلاق – وقوع اور عدم وقوع
2025-09-27 08:57:37
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
