شرعی سوال و جواب

طلاق کے وقوع کے لیے بیوی کا سننا یا جاننا شرط نہیں ہے

طلاق کے وقوع کے لیے بیوی کا سننا یا جاننا شرط نہیں ہے


سوال

 اگرپہلی بیوی کولکھ کر دیاجائے کہ میں نے دوسری بیوی کوتین طلاقیں دے دی ہیں اور دوسری بیوی کوپتہ ہی نہ ہو تو کیاطلاق واقع ہوجائے گی ؟

جواب

 اگرپہلی بیوی کولکھ کر دیاجائے کہ میں نے دوسری بیوی کوتین طلاقیں دے دی ہیں  تو دوسری بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی ،خواہ اس کو پتہ نہ لگے؛  اس لیے کہ طلاق کے وقوع کے لیے بیوی کا براہِ  راست سننا یا جاننا شرط نہیں ہے ،پس دوسری بیوی سے نکاح ختم ہو چکا ہے ،رجوع یا مزید ساتھ رہنے کی گنجائش نہیں ہے ۔  تاہم مطلقہ کو طلاق کی اطلاع دینا  ضروری ہے؛ تاکہ وہ عدت ،احکام ِعدت پورے کرسکے۔

البحر الرائق ميں ہے : 

“ومنها ‌الطلاق ‌والعتاق والعفو عن القصاص يثبت حكمها بلا ‌علم ‌الآخر.”

(كتاب البيوع ، باب شرط الخيار ، ج:6 ، ص: 18 ،ط: دار الكتاب الإسلامي )

فتاوی ہندیہ میں ہے:

“وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير۔”

(کتاب الطلاق ،الباب السادس فی الرجعۃ و فیما تحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ ،فصل فیما تحل بہ المطلقہ ومایتصل بہ ،ج:1،ص:473،ط:رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


طلاق
تین طلاق
2025-09-27 04:50:09

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔