شرعی سوال و جواب
عدت کے دوران تعزیت کے لیے گھر سے نکلنا
سوال
عورت کا عدت کے دوران اپنی بہن کی فوتگی میں شرکت کے لیے جانا جائز ہے؟
جواب
عدت کے دوران معتدہ عورت کے لیے(شرعی) ضرورت (مثلاً مکان منہدم ہوجائے یا مال و جان یا عزت آبرو کا خطرہ وغیرہ ) کے بغیر گھر سے نکلناجائز نہیں ہے،شرعی اعتبار سے عدت کے دوران بہن کی فوتگی میں تعزیت وغیرہ کے لیے جانا(شرعی )ضرورت میں شامل نہیں ہے،لہذا فون وغیرہ پر ہی تعزیت کرلی جائے،گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے۔
الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:
“(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا تخرجان منه (إلا أن تخرج أو ينهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه.”
(كتاب الطلاق، باب العدۃ،فصل فی الحداد،ج3،ص536،ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
طلاق
عدت میں گھر سے باہر نکلنا
2025-10-08 10:52:47
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
