شرعی سوال و جواب

عدت کے دوران پنشن کے لیے بائیو میٹرک کے لیے نکلنے کا حکم

عدت کے دوران پنشن کے لیے بائیو میٹرک کے لیے نکلنے کا حکم


سوال

 میری والدہ جو کہ ستر سال کی ہیں اوروہ عدت میں ہیں ، ان کو پینشن کے لیے اکاؤنٹ وغیرہ بنوانا ہے ، جس کے لیے ان کو بائیو میٹرک کرنی ہو گی،  اور بینک وغیرہ یا پینشن آفس وغیرہ میں جانا لازمی ہے ، تو کیا وہ ضرورت کے تحت جا سکتی ہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ معتدّہ کے لیے دوران عدّت بغیر ضرورتِ شدیدہ کے گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے۔

صورتِ مسئولہ میں کوشش کی جائے کہ عدت کے بعد بائیو میٹرک کرنے سے کام ہو جائے گایا نہیں، اگر عدت کے بعد کرنے سے کام ہو جائے گاتو عدت میں نہ جائے ورنہ عدت میں جا کر بائیو میٹرک کرنے کی اجازت ہو گی۔

فتاوی شامی میں ہے:

“(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه.”

(كتاب الطلاق، ج:3، ص:536، ط:ايج ايم سعيد)

فقط والله اعلم 


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


طلاق
عدت میں گھر سے باہر نکلنا
2025-10-08 00:44:09

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔