شرعی سوال و جواب

عورت کا عذر کی بناء پر سر کے بال کاٹنا درست ہے

عورت کا عذر کی بناء پر سر کے بال کاٹنا درست ہے


سوال

اگر عورت مکمل شرعی پردہ کرتی ہو اور کسی طرح کے فیشن کی غرض بھی نہ ہو اور مرد کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے کا خیال بھی نہ ہو تو کیا کسی عذر کی وجہ سے بال کاٹ سکتی ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں عورتوں کے لیے عذر (مرض یا درد وغیرہ ) کی بناء پر بال کاٹنا یا چھوٹے کرانا درست ہے۔ 

غمز عیون البصائر فی شرح الاشباہ میں ہے:

” قوله: وتمنع من حلق رأسها. أي حلق شعر رأسها. أقول ذكر العلامي في كراهته أن لا بأس للمرأة أن تحلق رأسها لعذر: مرض ووجع وبغير عذر لا يجوز

(انتهى) . والمراد بلا بأس هنا الإباحة لا ما ترك فعله أولى، والظاهر أن المراد بحلق شعر رأسها إزالته ‌سواء ‌كان ‌بحلق ‌أو ‌قص ‌أو ‌نتف أو نورة. فليحرر، والمراد بعدم الجواز كراهية التحريم لما في مفتاح السعادة، ولو حلقت فإن فعلت ذلك تشبها بالرجال فهو مكروه لأنها ملعونة.”

(الفن الثالث، احكام الانثي، ج:3، ص:381، ط:دار الكتب العلمية)

فقط  واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حظر و اباحت
داڑھی، مونچھ، بالوں، ناخن کے احکام
2025-09-27 03:44:00

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔