شرعی سوال و جواب

عورت کا ناپاکی کی حالت میں دودھ پلانا

سوال

کیا عورت ازدواجی تعلقات قائم ہونے کی وجہ سے ناپاکی کی حالت میں اپنی اولاد کو دودھ پلاسکتی ہے؟

جواب

بچے کو دودھ پلانے کے لیے عورت کا پاک ہونا ضروری نہیں ہے، لہذا حالتِ جنابت میں بھی عورت اپنے بچے کو دودھ پلا سکتی ہے  ۔ البتہ بچے کو فوری طلب نہ ہو تو غسل کرکے پلانا بہتر ہے۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

“(عن عائشة قالت: كنت أرجل رأس رسول الله صلى الله عليه وسلم) : أي شعر رأسه (و أنا حائض) : فيه جواز المخالطة مع الحائض  … و في الحديث دلالة على ‌طهارة ‌بدن ‌الحائض ‌وعرقها.”

(كتاب اللباس، باب الترجل، ج:7، ص:2813، ط:دار الفكر)

فتاوی ہندیۃ میں ہے:

“وإن أراد أن يأكل أو يشرب فينبغي أن يتمضمض ويغسل يديه.”

(كتاب الطهارة، الباب الثاني في الغسل، الفصل الثالث في المعاني الموجبة للغسل، ج:1، ص:16، ط:رشيدية)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حظر و اباحت
متفرقات ممنوعات و مباحات
2025-10-08 06:20:06

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔