شرعی سوال و جواب

عورت کو طلاق کا علم تین ماہ سے زائد وقت کے بعد ہوا تو عدت کا کیا حکم ہے؟

عورت کو طلاق کا علم تین ماہ سے زائد وقت کے بعد ہوا تو عدت کا کیا حکم ہے؟


سوال

میرے شوہر سے تعلق ختم ہوئے تقریباً دس ماہ سے زائد ہو گئے مجھے کل پتہ چلا کے میرے شوہر سے میری بہن نے بات کی تو انہوں نے بتایا کے انہوں نے مجھے ایک طلاق دے دی ہے اور اسے تین ماہ سے زائد ہو گیا اور اب مجھے طلاق کے کاغذ دے رہے ہیں میرا سوال یہ ہے کے کیا مجھے عدت میں بیٹھنا ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب آپ کے شوہر نے آپ کو طلاق دی تھی اسی وقت سے آپ کی عدت کا وقت شروع ہو چکا تھا، لہذا اب اگر عدت کی مدت پوری ہو چکی ہے تو آپ پر دوبارہ عدت گزارنا لازم نہیں ہے۔

واضح رہے کہ اگر عورت حمل سے نہ ہو تو عدت کی مدت تین مکمل ماہورایاں ہوتی ہے اور اگر  عورت حمل سے ہو تو وضع حمل یعنی بچے کی ولادت تک عدت کا وقت ہوتا ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

“وعلى هذا يبنى وقت وجوب العدة أنها تجب من وقت وجود سبب الوجوب من الطلاق، والوفاة، وغير ذلك حتى لو بلغ المرأة طلاق زوجها أو موته فعليها العدة من يوم طلق أو مات عند عامة العلماء”.

(كتاب الطلاق، فصل: وأما الذي هو من التوابع3/ 190، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


طلاق
عدتِ طلاق
2025-10-08 07:40:00

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔