شرعی سوال و جواب
غلطی سے پاتو بلی کا بچہ مرجانے کا حکم
سوال
میرے گھر پالتو بلی ہے جس کے بچے ہیں۔ مجھ سے غلطی سے ایک بچہ مر گیا، اب مجھے ڈر ہے کہ بد دعا نا لگے اس کے لئے کیا کروں؟
جواب
صورت مسئولہ میں جب غلطی سے بلی کا بچی مرا ہے تو سائل پراس کا کوئی گناہ نہیں ہے اور نہ ہی سائل کو اس بات کا وہم کرنا چاہیے کہ کوئی بد دعا لگ جائے گی ،البتہ جب بلی پالی ہے تو آئندہ اس بلی اور اس کی اولاد کے معاملہ میں زیادہ احتیاط سے کام بھی لے۔باقی جو ہوا اس پر تو بہ استغفار کرلی جائے تاکہ اطمینان حاصل ہوجائے۔
كنز العمال میں ہے:
“رفع عن أمتي الخطأ والنسيان وما استكرهوا عليه”. “طب عن ثوبان.”
(کتاب التوبۃ، فصل ثانی ج نمبر ۴ ص نمبر ۲۳۳، مؤسسۃ الرسالۃ)
مرقاة المفاتيح میں ہے:
“وعن ابن عمر قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم. ينهى أن تصبر بهيمة، أو غيرها للقتل» . متفق عليه.”
(کتاب الصید و الذبائح ج نمبر ۶ ص نمبر ۲۶۴۹، دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
حظر و اباحت
جانور / پرندے پالنا
2025-09-30 18:15:18
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
