شرعی سوال و جواب

غیر مسلموں کو ان کے میلے یا چترا کے موقع پر پانی پلانا

غیر مسلموں کو ان کے میلے یا چترا کے موقع پر پانی پلانا


سوال

غیر مسلموں کے میلے یا چترا کے موقع پر ان کو پانی پلانا کیسا ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں غیر مسلموں کے میلے وغیرہ کے موقع پر ان کو پانی پلانا ان سے اظہار محبت کی علامت ہے لہذا شرعا ایسا کرنا جائز نہیں ہےاور اگر ان کے تہوار کے دن کی تعظیم کرتے ہوئے پانی پلایا تو کفر کا اندیشہ ہے۔البتہ عام دنوں میں غیر مسلموں اور ان کے جانوروں کو پانی پلانے میں کوئی حرج نہیں۔

البحرا لرائق میں ہے:

“قال رحمه الله(والإعطاء باسم النيروز والمهرجان لا يجوز) أي الهدايا باسم هذين اليومين حرام بل كفر وقال أبو حفص الكبير – رحمه الله – لو أن رجلا عبد الله تعالى خمسين سنة ثم جاء يوم النيروز وأهدى إلى بعض المشركين بيضة يريد تعظيم ذلك اليوم فقد كفر وحبط عمله وقال صاحب الجامع الأصغر إذا أهدى يوم النيروز إلى مسلم آخر ولم يرد به تعظيم اليوم ولكن على ما اعتاده بعض الناس لا يكفر ولكن ينبغي له أن لا يفعل ذلك في ذلك اليوم خاصة ويفعله قبله أو بعده لكي لا يكون تشبيها بأولئك القوم، وقد قال – صلى الله عليه وسلم – «من تشبه بقوم فهو منهم» وقال في الجامع الأصغر رجل اشترى يوم النيروز شيئا يشتريه الكفرة منه وهو لم يكن يشتريه قبل ذلك إن أراد به تعظيم ذلك اليوم كما تعظمه المشركون كفر، وإن أراد الأكل والشرب والتنعم لا يكفر.”

(مسائل شتي جلد 8 ص: 555 ط: دارالکتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم 


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


ایمان و عقائد
کفر و شرک اور ان کی اقسام
2025-09-27 17:00:31

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔