شرعی سوال و جواب
فوٹو گرافی (Photography) کا پیشہ اختیار کرنے کا حکم
فوٹو گرافی (Photography) کا پیشہ اختیار کرنے کا حکم
سوال
میں فوٹوگرافی کرتا ہوں کیا یہ کام ٹھیک ہے یا غلط ہے؟ کیا انسانوں اور جانوروں کی فوٹو بنانا ٹھیک ہے یا غلط ہے؟
جواب
کسی بھی جاندار خواہ انسان ہویاجانور کی تصویر، جس سے اس جاندار کی صورت کے خط و خال نمایاں ہوتے ہوں اور دیکھنے والا اس کو جان دار کا عکس سمجھ سکے، ایسی تصویر بنانا جائز نہیں ہے، اور اس کے عوض میں حاصل ہونے والی کمائی حرام ہے۔ غیر جاندار کی تصاویر بنانا جائز ہیں اور اس کے عوض ملنے والی کمائی حلال ہے۔
صحیح البخاری میں ہے:
“عن عبد اللّٰه قال : سمعت النبي ﷺ یقول : ’’ إن أشد الناس عذاباً عند اللّٰه المصورون.”
( کتاب اللباس ، باب عذاب المصورین یوم القیامة ، ج:1، ص:167، ط:السلطانية)
“ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالی کے ہاں سب سے سخت عذاب تصویر بنانے والوں کو ہوگا۔”
فتاوی شامی میں ہے:
“و ظاهر كلام النووي في شرح مسلم: الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ فينبغي أن يكون حراماً لا مكروهاً إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل بتواتره …”
(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،ج:1،ص:647 ،ط: دار الفكربيروت)
فقط واللہ أعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
حظر و اباحت
تصویر کے احکام / حدود
2025-10-17 17:03:01
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
