شرعی سوال و جواب
قسطوں کےکاروبار کاحکم
سوال
قسطوں کے (سامان کے)لین دین کے متعلق رہنمائی فرمائیں ۔
جواب
واضح رہے کہ ہر شخص کے لیے اپنی مملوکہ چیز کو اصل قیمت میں کمی زیادتی کے ساتھ نقد اور ادھار دونوں طرح فروخت کرنے کا اختیار ہوتا ہے، اور جس طرح سامان فروخت کرنے والا اپنے سامان کی قیمت یک مشت وصول کرسکتا ہے ، اسی طرح اس کو یہ بھی اختیار ہوتا ہے کہ وہ اس رقم کو قسط وار وصول کرے، قسطوں پر خرید وفروخت میں درج ذیل شرائط کا لحاظ اور رعایت کرنا ضروری ہے:
عقد(معاملہ کرنے) کے وقت مجموعی قیمت مقرر ہو،مدت اورقسط کی رقم بھی متعین ہو اور ایک شرط یہ بھی ہے کہ کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں اس میں اضافہ (جرمانہ) وصول نہ کیا جائے، اور جلد ادائیگی کی صورت میں قیمت کی کمی عقد میں مشروط نہ ہو، اگر بوقتِ عقد یہ شرط ہوگی تو پورا معاملہ ہی فاسد ہوجائے گا، ان شرائط کی رعایت کے ساتھ قسطوں پر خریدوفروخت کرنا جائز ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
” لأن للأجل شبها بالمبيع. ألا ترى أنه يزاد في الثمن لأجله.”
(کتاب البیوع، باب المرابحة، 142/5، ط: سعید)
بدائع الصنائع میں ہے:
“ولو اشترى شيئا نسيئة لم يبعه مرابحة حتى يبين؛ لأن للأجل شبهة المبيع وإن لم يكن مبيعا حقيقة؛ لأنه مرغوب فيه ألا ترى أن الثمن قد يزاد لمكان الأجل.”
(کتاب البیوع، 224/5، ط: دار الکتب العلمیة)
“شرح المجلة لرستم باز(المادة: 245،246)” میں ہے:
“البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح، يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتأجيل والتقسيط… لأن جهالته تفضي إلى النزاع فيفسد البيع به.”
( الكتاب الأول في البيوع، الباب الثالث ف،100/1، ط: فاروقيه)
فقط والله أعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
معاملات
نقد اور ادھار خرید و فروخت کے احکام
2025-10-17 17:37:06
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
