شرعی سوال و جواب
لفظ اگر تم ابھی گئی تومیری طرف سے فارغ ہو سے طلاق کا حکم
لفظ اگر تم ابھی گئی تومیری طرف سے فارغ ہو سے طلاق کا حکم
سوال
میرا میری اہلیہ سے دوپہر کو جھگڑا ہوا،جس میں لڑائی کے دوران میں نے اپنی اہلیہ کو کہا ”اگر تم ابھی گئی تومیری طرف سے فارغ ہو“ جس پر میری بیٹی نے کہاکہ بابا آپ نے کیاکہا ،طلاق کہا؟جس پر میں نے کہاکہ ”ہاں اگر ابھی گئی تو طلاق ہے“، اس پر اہلیہ نے کہا یہ آپ کی بات شرطیہ ہے؟ میں نے کہاہاں ،پھر میری اہلیہ اس وقت گھر سے نہیں نکلی ،اور رات ساڑھے بارہ بجے کے بعد گھر چلی گئی ۔
اب میرا سوال یہ ہے :کہ ان الفاظ سے طلاق ہوئی یانہیں؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتًا سائل کے مذکورہ الفاظ ”اگر تم ابھی گئی تو میری طرف سے فارغ ہو“،”ہاں اگر ابھی گئی تو طلاق ہے“، کے بعد اس وقت بیوی نہیں گئی بلکہ رات کو گئی تو اس سے سائل کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوئی، نکاح بدستور قائم ہے۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:
“فالحلف لا يخلو إما أن يكون مطلقا عن الوقت وإما أن يكون موقتا بوقت وكل ذلك لا يخلو إما أن يكون في الإثبات أو في النفي … وإن كان موقتا بوقت فالوقت نوعان موقت نصا وموقت دلالة أما الموقت نصا … وإن كان في النفي فمضى الوقت والحالف والمحلوف عليه قائمان فقد بر في يمينه لوجود شرط البر.الخ.”
(کتاب الأیمان ،فصل في شرائط ركن اليمين بالله تعالى،ج:3،ص: 12،ط:دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
طلاق
طلاق کو معلق کرنا
2025-11-29 22:35:20
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
