شرعی سوال و جواب
ماتم کا حکم
سوال
ماتم کرنا کیسا ہے ؟
جواب
رنج وغم ایک غیراختیاری چیز ہے جس پر شریعتِ مطہرہ میں مؤاخذہ نہیں ہے،البتہ کسی کے انتقال پر آواز سے رونا،چیخنا،سینہ کوبی کرنا، اور لباس چیر کر غم کا اظہار کرنا، ماتم کرنا شرعًا ناجائز اور حرام ہے۔رسول اکرم ﷺ نے اس سےمنع فرمایا ہے، چنانچہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:“جو منہ پر طمانچے مارے ، گریبان چاک کرے اور زمانۂ جاہلیت کی طرح چیخ و پکار کرے وہ ہمارے دین پر نہیں ۔”
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
“عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليس منا من ضرب الخدود وشق الجيوب ودعا بدعوى الجاهلية.”
ترجمہ: “جو منہ پر طمانچے مارے ، گریبان چاک کرے اور زمانۂ جاہلیت کی طرح چیخ و پکار کرے وہ ہمارے دین پر نہیں ۔”
(کتاب الجنائز،باب دفن المیت ج : ٍ1 ص : 541 ط: المکتب الاسلامی)
غنیۃ الطالبین میں پیرانِ پیرحضرت عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ نے لکھاہے:
“ولو جاز أن يتخذ يوم موته يوم مصيبة لكان يوم الإثنين أولی بذلك، إذ قبض الله تعالى نبيه محمدًا صلى الله عليه وسلم فيه، وكذلك أبو بكر الصديق رضي الله عنه قبض فيه.”
(القسم الثالث فی المجالس ج : 2 ص : 93 ط : دارالکتب العلمیۃ)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
حظر و اباحت
بدعت / رسومات پر مشتمل مجالس و محافل
2025-09-27 04:35:46
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
