شرعی سوال و جواب
مالِ تجارت کی زکات میں نیت کا حکم
سوال
میں نے کچھ عرصہ قبل چائنہ سے سامان منگوایا تھا اس کا ایک بڑا حصہ تو سیل ہوگیا،لیکن کچھ مال اس وقت میرے سٹور میں موجود ہے،جس کی سیل فلاپ ہوچکی ہے،تو کیا اس پر زکاۃ واجب ہوگی،نیز یہ بھی بتا دیں کہ ا گر اس وقت میں اس مال کی ویلیو کم ہونے کی وجہ اس کو سیل کرنے کا ارادہ ترک کردیتا ہوں،اور اس کوذاتی استعمال میں لانے یا کسی کو بلامعاوضہ دینے کی نیت کر لیتا ہوں تو اس صورت میں اس کی زکات کا کیا حکم ہوگا ؟
جواب
سٹور میں موجودہ مال جس کی سیل فلاپ ہو چکی ہے،اگر وہ نصاب کے برابر ہو یا دوسرے مال سے مل کر نصاب کے برابر ہو جائے اور نصاب پر سال گزرا ہو تو اس کی زکات دینا واجب ہے،البتہ اگر سال نہ گزرا ہو اور اس سے تجارت کا ارادہ ترک کر دے تو زکات ساقط ہو جاۓ گی ۔
فتاوی شامی میں ہے:
“(لا يبقى للتجارة ما) أي عبد مثلا (اشتراه لها فنوى) بعد ذلك (خدمته ثم) ما نواه للخدمة (لا يصير للتجارة) وإن نواه لها ما لم يبعه بجنس ما فيه الزكاة. والفرق أن التجارة عمل فلا تتم بمجرد النية؛ بخلاف الأول فإنه ترك العمل فيتم بها.”
(کتاب الزکاۃ،ج:2،ص:272،ط:سعید)
فقط وللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
زکات
سامان تجارت
2025-09-27 08:33:56
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
