شرعی سوال و جواب
ماہد نام رکھنا
سوال
میں اپنے بیٹے کا نام ماھد رکھنا چاہتا ہوں ،برائےمہربانی یہ نام رکھنا کیسا ہے ؟ نیز یہ نام کیسےلکھا جائے گا ۔ ماھد، ماہد یا ماحد
جواب
“ماھد” مھد سے اسم فاعل کا صیغہ ہے ،جس کا معنی ہے : بچھانے والا ،برابر کرنے والانیز قران مجید میں بھی بچھانے والے کے معنی میں وارد ہوا ہے :
“وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ .”﴿الذاريات: ٤٨﴾
ترجمہ:” اور ہم نے زمین کو فرش(کے طور پر) بنایا سو ہم کیسے اچھے بچھانے والے ہیں”( بیان القران)
جب کہ” ماحد” بے معنی لفظ ہے ،لہذا سائل کے لیے اپنے بیٹۓ کا ناماھد رکھنے کی گنجائش ہے لیکن اس سے بھی بہتر معنے والے نام منتخب کیے جائیں تو زیادہ بہتر ہے نیز اردو رسم الخط کی رو سے “ماہد” لکھا جائے گا، اچھے ناموں کے لیے جامعہ کی ویب سائٹ ملاحظہ ہو :اسلامی نام۔
الدر المنثور في التفسير بالمأثور میں ہے:
“وأخرج ابن جرير وابن المنذر عن ابن جريج رضي الله عنه في قوله {وإنا لموسعون} قال: لنخلق سماء مثلها وفي قوله {والأرض فرشناها فنعمالماهدون} قال: الفارشون.”
(سورة الذاريات،الآيات 41 – 53،ج7،ص223،ط:دار الفكر)
الصحاح تاج اللغة میں ہے :
“[مهد] المهد: مهد الصبى. والمهاد: الفراش. وقد مهدت الفراش مهدا: بسطته، ووطأته. وتمهيد الامور: تسويتها وإصلاحها: وتمهيد العذر: بسطه وقبوله. وامتهاد السنام: انبساطه وارتفاعه.”
(باب الدال، فصل الميم، ج2، ص541، ط:دار العلم للملايين)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
حظر و اباحت
ناموں کے معانی اور احکام
2025-09-30 14:35:41
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
