شرعی سوال و جواب

مسلمان کے لیے بت کے سامنے ہاتھ جوڑنے کا حکم

سوال

کیا ایک مسلمان سیاست دان بت کی تعظیم کے لیے بت کے سامنے ہاتھ جوڑ سکتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں بت کی تعظیم سے مقصد اگر اس کو معبود سمجھنا ہے تو بت کے سامنے اس طرح ہاتھ جوڑ کر تعظیم کرنا کفر ہے، تاہم اگر اس کو معبود نہیں سمجھتا ہے محض کسی سیاسی مقصد کی غرض سے اس کے سامنے ہاتھ جوڑا تویہ گناہِ کبیرہ ہے، اور ایساکرنا حرام ہے،اس سے توبہ استغفار کرنا لازم ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

“(وكذا) ما يفعلونه من (تقبيل الأرض بين يدي العلماء) والعظماء فحرام والفاعل والراضي به آثمان لأنه يشبه عبادة الوثن وهل يكفران: على وجه العبادة والتعظيم كفر وإن على وجه التحية لا وصار آثما مرتكبا للكبيرة”.

(كتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء، ج:6، ص:383، ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


ایمان و عقائد
کفر و شرک اور ان کی اقسام
2025-10-12 15:06:50

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔