شرعی سوال و جواب

مسواک پیر میں لینا

سوال

کیاوضو کرتے وقت مسواک کو پاؤں کے انگوٹھے میں پکڑ سکتے ہیں؟ شہری علاقے میں استعمال  شدہ مسواک کو کیسے تلف کیا جائے؟

جواب

واضح رہے  کہ مسواک رسول اللہ ﷺ کی محبوب ترین سنت ہے، اس لیے ادب کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو پاؤں سے نہ پکڑا جائے ، اسی طرح  استعمال کرنے کے بعد اس کو کسی  پاک جگہ دفنا دیا جائے یا ایسی جگہ مٹی وغیرہ میں ڈال دیا جائے جہاں لوگوں کا گزر نہ ہوتا ہو  یا پھر جاری پانی میں ڈال دیا جائے،البتہ اگر اس کو کہیں پھینک  دیا تو کوئی گناہ نہیں ہوگا۔

الفتاوى الهندية:

“فإذا قلم أطفاره أو جز شعره ينبغي أن يدفن ذلك الظفر والشعر المجزوز فإن رمى به فلا بأس.”

(الباب التاسع عشر في الختان والخصاء وحلق المرأة شعرها ووصلها شعر غيرها، ج:5، ص:358، ط:دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

“الكتب التي لاينتفع بها يمحى عنها اسم الله و ملائكته و رسله و يحرق الباقي و لا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن وهو أحسن كما في الأنبياء.”

(‌‌كتاب الحظر والإباحة، ج:6، ص:422، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حظر و اباحت
متفرقات ممنوعات و مباحات
2025-09-30 14:30:17

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔