شرعی سوال و جواب

منحہ نام رکھنے کا حکم

سوال

منحہ نام کیوں نہیں رکھ سکتے ؟

جواب

 “منحہ” میم پر زیر کے ساتھ عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کا معنی ہے: تحفہ، عطیہ، گفٹ، یہ نام رکھنا درست ہے۔ جو نام رکھنا منع ہے وہ “منھا ” ہے یہ لفظ نام کے طور پر استعمال نہیں ہوتا ۔

 المعجم الوسیط میں ہے :

“(منحه) الشَّيْء منحا وهبه وَالدَّابَّة وَنَحْوهَا أقْرضهُ إِيَّاهَا لتعمل لَهُ عملا ثمَّ يردهَا”.

(888/2،دار الدعوة)

تاج العروس میں ہے:

“منح : ( مَنَحَهُ) الشّاةَ والنّاقَةَ ( كَمنَعَه وضَرَبَه ) يَمنَحه ويَمْنِحُه : أَعارَه إِيّاهَا ، وذكره الفَرَّاءُ في باب بَفعَل ويَفعِل . ومَنَحَه مالاً : وَهَبَه . ومَنَحَه : أَقرَضه . ومَنَحَه : ( أَعْطَاهُ ، والاسمُ المِنْحَة ، بالكسر)، وهي العَطِيّة ، كذا في (الأَساس)”.

(7/ 155، ط: دار الھدایة)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


عمومی
نام، لقب، کنیت
2025-10-08 08:11:51

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔