شرعی سوال و جواب
مکہ مکرمہ میں کلاک ٹاور میں رہتےہوئےکمرےسےجماعت کی نمازمیں شامل ہونے کا حکم
مکہ مکرمہ میں کلاک ٹاور میں رہتےہوئےکمرےسےجماعت کی نمازمیں شامل ہونے کا حکم
سوال
مکہ مکرمہ میں کلاک ٹاور میں رہتےہوئےکمرےسےجماعت کی نمازمیں شامل ہونادرست ہےیانہیں؟
جواب
مکہ مکرمہ میں کلاک ٹاور میں رہتےہوئےکمرےسےجماعت کی نمازمیں شامل ہونااتصالِ صفوف نہ پائےجانےکی وجہ سےدرست نہیں، نیچےاترکرجہاں تک صفیں بچی ہوئی ہوں وہیں سےاقتداءدرست ہوجائےگی۔
البتہ انتہائی رش کے زمانے میں جب نیچے تمام جگہ صفیں بنی ہوئی ہوں اور ہوٹل میں نماز پڑھنے کی جگہ اور نیچے بنی ہوئی صفوں کے درمیان اتصال ہو اور دو صفوں کا بھی فاصلہ نہ ہو تو اس صورت میں ہوٹل کے کمرے میں اقتدا کرنا درست ہوگی۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
“والصغرى ربط صلاة المؤتم بالإمام بشروط عشرة: نية المؤتم الاقتداء، واتحاد مكانهما وصلاتهما
(قوله واتحاد مكانهما) فلو اقتدى راجل براكب أو بالعكس أو راكب براكب دابة أخرى لم يصح لاختلاف المكان.”
(کتاب الصلوٰة، باب الإمامة، ج:1، ص:549، ط:سعید)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
المانع من الاقتداء ثلاثة أشياء.
(منها) طريق عام يمر فيه العجلة والأوقار هكذا في شرح الطحاوي إذا كان بين الإمام وبين المقتدي طريق إن كان ضيقا لا يمر فيه العجلة والأوقار لا يمنع وإن كان واسعا يمر فيه العجلة والأوقار يمنع. كذا في فتاوى قاضي خان والخلاصة هذا إذا لم تكن الصفوف متصلة على الطريق أما إذا اتصلت الصفوف لا يمنع الاقتداء.”
(کتاب الصلوٰة، الباب الخامس في الإمامة، الفصل الرابع في بيان ما يمنع صحة الاقتداء وما لا يمنع، ج:1، ص:87، ط:دار الفکر)
فقط واللہ أعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
نماز
جماعت / امامت
2025-09-26 02:25:11
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
