شرعی سوال و جواب
میرا آج بھی فیصلہ ہے کے لفظ سے طلاق کا حکم
سوال
ایک بندے نے ذاتی رنجش کی بنا پر اپنی بیوی کے بھائی تک ایک واسطے سے یہ پیغام پہنچایا کہ میرا آج بھی فیصلہ ہے ،کل بھی فیصلہ ہے ،شرعاً اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں شوہر کا اپنی بیوی سے متعلق (بالواسطہ )بیوی کے بھائی کو یہ کہناکہ :”میرا آج بھی فیصلہ ہے ،کل بھی فیصلہ ہے ،“اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، البتہ ایسے الفاظ کے استعمال سے بھی اجتناب کرنا چاہیے ۔
ردالمحتار میں ہے:
“(قوله: و ركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر…وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق و لم يذكر لفظًا لا صريحًا و لا كنايةً لايقع عليه، كما أفتى به الخير الرملي وغيره.”
(كتاب الطلاق، ج:3، ص:230، ط:سعيد)
فقط والله اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
طلاق
طلاق – وقوع اور عدم وقوع
2025-09-25 23:39:30
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
