شرعی سوال و جواب
میں آپ کو فارغ کروں گا ، کہنے کا حکم
سوال
میں بیمارتھا ، ہوش و حواس میں نہیں تھا، تو میں نے اپنی بیوی کو بولا کہ ” میں آپ کو فارغ کروں گا ” یہ الفاظ میں نے دو دفعہ بولے، اب گھر والےکہہ رہے ہیں کہ آپ کا مسئلہ حل نہیں ہو گا، یعنی ہم دونوں اب ساتھ نہیں رہ سکتے ، آپ مجھے بتا دیں کہ اس کا کیا حکم ہے ؟ کیا ہم ساتھ رہ سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نےاپنی بیوی کو یہی الفاظ کہے ہیں کہ ” میں آپ کو فارغ کروں گا ” تویہ محض دھمکی ہے اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، نکاح برقرار ہے، سائل اپنا گھر بسا سکتا ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے :
“في المحيط: لو قال بالعربية: أطلق لايكون طلاقًا.”
(کتاب الطلاق، 1/ 384 ط : رشیدیہ)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
طلاق
عدمِ وقوعِ طلاق
2025-09-27 03:57:17
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
