شرعی سوال و جواب
نام کے ساتھ مختلف لاحقات لگا کر پکارنا
سوال
ہمارے علاقے میں مرد لوگ اپنے ناموں کے آخر میں عالَم لگاتے ہیں جیسے نام “زید” ہے تو “زید عالم” کہتے ہیں اور عورتیں اپنے ناموں کے آخر میں پروین، خاتون، نساء وغیرہ جیسے الفاظ لگاتی ہیں جیسے نام “خدیجہ” ہے تو “خدیجہ پروین، خدیجہ خاتون، خدیجۃ النساء” کہتے ہیں تو ناموں کے آخر میں اس طرح کا اضافہ درست ہے؟شرعی اعتبار سے اس میں کوئی قباحت تو نہیں ہے؟
جواب
ناموں کے ساتھ ایسے الفاظ کا اضافہ کرنے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔ بشرطیکہ نام کا مطلب اس سے نہ بگڑتا ہو اور مخاطب اسے برا نہ سمجھتا ہو۔
المجموع میں ہے:
“واتفق العلماء على تحريم تلقيب الإنسان بما يكره سواء كان صفة كالأعمش والأعمى والأعرج والأحول والأصم والأبرص والأصفر والأحدب والأزرق والأفطس والاشتر والاثرم والاقطع والزمن والمتعد والأشل أو كانصفة لأبيه أو لأمه أو غير ذلك مما يكرهه
واتفقوا على جواز ذكره بذلك على جهة التعريف لمن لا يعرفه إلا بذلك ودلائل كل ما ذكرته مشهورة حذفتها لشهرتها
واتفقوا على استحباب اللقب الذي يحبه صاحبه فمن ذلك أبو بكر الصديق اسمه عبد الله بن عثمان ولقبه عتيق.”
(المجموع شرح المهذب،كتاب الحج،باب العقيقة، 8/ 441 ،الناشر: إدارة الطباعة المنيرية، القاهرة)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
حظر و اباحت
لقب / کنیت / نسبت / فرضی نام رکھنے کے احکام
2025-09-27 18:30:50
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
