شرعی سوال و جواب

نمازوں کے اوقات تبدیل کرنے کا حق کس کو ہے؟

سوال

نماز کے اوقات بدلنے کا حق امام کو ہے یا متولی کو ؟

ہمارے یہاں متولی حضرات کا کہنا ہے کہ ہماری اجازت کے بغیر نماز کے اوقات میں تبدیلی نہ کی جائے۔

جواب

نماز  باجماعت کے اوقات  کی تبدیلی کا تعلق نمازوں کے مستحب اوقات   کے احکام سے ہے،  اور  ان میں بعض  مصالح کے تحت تبدیلی بھی ہوتی ہے، اگر مسجد کا متولی نمازوں کے مستحب اوقات  اور  ان سے متعلقہ  ضروری مسائل  اور مقتدیوں کے مصالح سے واقف ہو  تو نمازوں کے اوقات میں تبدیلی کا  حقدار مسجد کا متولی ہے، لیکن اگر  وہ نماز کے مسائل سے واقف نہ ہو تو  اس صورت میں امامِ مسجد  جماعت کے اوقات میں تبدیلی کر سکتا ہے،  تاہم موجودہ زمانے میں بہتر یہ ہے کہ باہمی رضامندی  سے کسی معتبر مفتی کی نگرانی  میں  سال بھر کے لیے اوقات نماز کا ایک نقشہ  بنوا لیا جائے، اور نقشہ  کے مطابق مقررہ  تاریخوں پر متولی یا امام اوقات نماز کی تبدیلی سے نمازیوں کو آگاہ کر دے، اور اوقات نماز کی تبدیلی  کو محل نزاع نہ بنایا جائے۔

رد المحتار علي الدر المختارمیں ہے:

“ولاية الأذان والإقامة لباني المسجد مطلقا وكذا الإمامة لو عدلا.

(قوله: مطلقًا) أي عدلًا أو لا. و في الأشباه: ولد الباني وعشيرته أولى من غيرهم اهـ وسيجيء في الوقف أن القوم إذا عينوا مؤذنا وإماما وكان أصلح مما نصبه الباني فهو أولى، وذكره في الفتح عن النوازل وأقره. اهـ. مدني.”

(كتاب الصلاة، باب الأذان، ١ / ٤٠٠، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم 


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


نماز
جماعت / امامت
2025-10-08 06:25:57

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔