شرعی سوال و جواب

نیند کے دوران منہ سے نکلی ہوئی غلط بات کا حکم

سوال

میں رات کو سوتے وقت نیند میں اللّٰہ تعالیٰ کا ذِکر کر جاتی ہوں، جس کا مُجھے علم نہیں ہوتا کہ میں کیا ذِکر کررہی ہوں؟  واللہ یہ درست بھی ہے یا نہیں؟ کہیں کوئی غلطی تو نہیں ہو جاتی، اگر ہو جاتی ہے تو اس کا کوئی کفارہ یا کچھ بتا دیں، کیونکہ میرے علم سے بالکل باہر ہوتا ہے کہ میں کیا پڑھ رہی ہوں،  باقی اللّٰہ پاک قبول کرنے والا ہے۔

جواب

 نیند  کی حالت میں انسان احکامِ شرعیہ کا مکلف نہیں ہے، لہذا اگر واقعتاً نیند کے دوران منہ سے کوئی غلط بات نکل جائے تو اس پر کسی قسم  کا مواخذہ اورگرفت  نہیں ۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

“وعن علي قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم -: «رفع القلم عن ثلاثة عن النائم حتى يستيقظ، وعن الصبي حتى يبلغ، وعن المعتوه حتى يعقل» . رواه الترمذي، وأبو داود”.

(کتاب النکاح، باب الخلع والطلاق، ج:5، ص:2142، ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حقوق و آدابِ معاشرت
اپنی ذات کے حقوق
2025-09-27 17:31:52

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔