شرعی سوال و جواب

والد کا ناراضگی کی حالت میں انتقال ہوگیا تواب بیٹا کیا کرے؟

والد کا ناراضگی کی حالت میں انتقال ہوگیا تواب بیٹا کیا کرے؟


سوال

والد کا انتقال ہوگیا ہے،  والد صاحب بیٹے سے ناراض  تھے، اب بیٹا کیا کرے ؟ 

جواب

حدیث شریف میں وارد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی بندے کے والدین یا ان میں سے کوئی  ایک  اس  حال میں مرجائے کہ وہ ان کا نافرمان ہوتاہے، اور وہ ان دونوں کے لیے دعا اور استغفار کرتا رہتاہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے فرماں بردار لکھ دیتے ہیں۔لہذامذکورہ حدیث کی روشنی میں بیٹے کو چاہیے کہ وہ اپنے والد کے لیے برابر توبہ واستغفار کرتا رہے،ان کے لیے صدقہ جاریہ کرے اور ان کے اعزہ  واقارب  کے  ساتھ حسن سلوک کا معاملہ رکھے،امید ہے کہ ان شاء اللہ آخرت میں  اس کووالد کا فرماں بردار شمار کیا جائے گا۔

مشکاہ المصابیح میں ہے:

“و عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن العبد ليموت والداه أو أحدهما و إنه ‌لهما ‌لعاق فلايزال يدعو لهما و يستغفر لهما حتى يكتبه الله بارًّا.”

(باب البر والصلۃ،ج3،ص1382،ط: المکتب  الاسلامی)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حقوق و آدابِ معاشرت
والدین کے حقوق
2025-10-14 18:25:25

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔