شرعی سوال و جواب
پہلی وحی اور دوسری وحی کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟
پہلی وحی اور دوسری وحی کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟
سوال
پہلی وحی اور دوسری وحی کے درمیان کتنا وقفہ ہے؟
جواب
پہلی وحی یعنی سورۃ علق کی ابتدائی پانچ آیات اور دوسری وحی یعنی سورۃ مدثر کی ابتدائی پانچ آیات کے نزول میں تین سال کا وقفہ تھا، جسے فترۃ الوحی کہا جاتا ہے۔
صحیح البخاری میں ہے :
“قال ابن شهاب : وأخبرني أبو سلمة بن عبد الرحمن : أن جابر بن عبد الله الأنصاري قال، وهو يحدث عن فترة الوحي، فقال في حديثه: بينا أنا أمشي إذ سمعت صوتا من السماء فرفعت بصري، فإذا الملك الذي جاءني بحراء جالس على كرسي بين السماء والأرض، فرعبت منه، فرجعت فقلت: زملوني، فأنزل الله تعالى: {يا أيها المدثر قم فأنذر} إلى قوله {والرجز فاهجر} فحمي الوحي وتتابع.”
(باب کیف کان بدء الوحی،ج:1،ص:7،رقم:4،ط:دار طوق النجاة)
فتح الباری میں ہے:
” وقع في تاريخ أحمد بن حنبل عن الشعبي أن مدة فترة الوحي كانت ثلاث سنين وبه جزم بن إسحاق.”
(اول الکتاب،ج1،ص27،ط:دار المعرفة)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
علوم و فنون
ترجمہ و تفسیر ، تعارف اور اقسام
2025-10-08 14:18:20
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
