شرعی سوال و جواب

کرپٹو کرنسی کا حکم

سوال

کیا اسلام میں کرپٹو کرنسی حلال ہے یا نہیں ؟

جواب

کرپٹو کرنسی میں پیسے لگانا ناجائز ہے۔

فتاوی ٰشامی میں ہے:

“وأفتى في الخيرية أيضا بأنه لو فرغ عن الوظيفة بمال، فللمفروغ له الرجوع بالمال، لأنه اعتياض عن حق مجرد وهو لا يجوز، صرحوا به قاطبة، قال: ومن أفتى بخلافه فقد أفتى بخلاف المذهب، لبنائه على اعتبار العرف الخاص، وهو خلاف المذهب، والمسألة شهيرة، وقد وقع فيها للمتأخرين رسائل واتباع الجادة أولى، والله أعلم. وكتب على ذلك أيضا كتابة حسنة في أول كتاب الصلح من الخيرية فراجعها.”

(کتاب الوقف، مطلب للمفروغ له الرجوع بمال الفراغ، ج:4، ص:383، ط:سعید)

تجارت کے مسائل کاانسائیکلوپیڈیا میں ہے :

’’بٹ کوائن محض ایک فرضی کرنسی ہے، اس میں حقیقی کرنسی کے بنیادی اوصاف اور شرائط بالکل موجود نہیں ہیں، لہذا موجودہ  زمانے میں   ” کوئن” یا   “ڈیجیٹل کرنسی”  کی خرید و فروخت کے نام سے انٹرنیٹ پر اور الیکٹرونک مارکیٹ میں جو کاروبار چل رہا ہے وہ حلال اور جائز نہیں ہے، وہ محض دھوکا ہے، اس میں حقیقت میں کوئی مادی چیز نہیں ہوتی، اور اس میں قبضہ بھی نہیں ہوتا صرف اکاؤنٹ میں کچھ عدد آجاتے ہیں، اور یہ فاریکس ٹریڈنگ کی طرح سود اور جوے کی ایک شکل ہے، اس لیے   ” بٹ کوائن” یا کسی بھی   ” ڈیجیٹل کرنسی” کے نام نہاد کاروبار میں پیسے لگانا اور خرید و فروخت میں شامل ہونا جائز نہیں ہے۔‘‘

(ج:2/ ص:92)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


معاملات
نقد اور ادھار خرید و فروخت کے احکام
2025-09-27 08:35:18

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔