شرعی سوال و جواب

کوے کا شرعی حکم

سوال

 کوا حلال ہے یاحرام؟

جواب

واضح رہے کہ کوے تین قسم کے ہوتے ہیں  (بعض فقہاء نے تین سے زیادہ قسمیں بھی بتائی ہیں ):

ایک وہ جو صرف مردار کھا تا ہے، ایسا کوا ’’ ناجائز‘‘ ہے ۔

 دوسرا وہ جو صرف دانہ کھاتا ہے ، یہ ’’حلال‘‘ ہے ۔( البتہ ایسا کوا  ہمارے ہاں شہروں میں نہیں پایا جاتا)۔

تیسرا وہ جو دانہ اور مردار دونو ں کھاتا ہے، اس کو ’’عقعق‘‘  کہتے ہیں ۔ امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک  یہ بھی حلال ہے؛ کیوں کہ ان کے نزدیک یہ  مرغ کی طرح ہے (کہ دانہ و نجاست دونوں کھاتا ہے )  اور  امام ابو یوسف  کے نزدیک یہ تیسری قسم مکروہ ہے ؛ کیوں کہ وہ زیادہ ترمردار کھاتا ہے ۔ مگر امام ابو حنیفہ کا مذہب احق ہے ۔(کذا فی فتاویٰ رحیمیہ، جلد 10، ص۷۷،  ناشر : دار الاشاعت اردو بازار کراچی پاکستان)

فتاوی شامی میں ہے:

“«قال في العناية: وأما الغراب الأبقع والأسود فهو أنواع ثلاثة: نوع يلتقط الحب و لايأكل الجيف وليس بمكروه. ونوع لا يأكل إلا الجيف وهو الذي سماه المصنف الأبقع وإنه مكروه. ونوع يخلط يأكل الحب مرة والجيف أخرى و لم يذكره في الكتاب، وهو غير مكروه عنده مكروه عند أبي يوسف اهـ والأخير هو العقعق كما في المنح وسيأتي».”

(کتاب الذبائح ج نمبر  ۶ ص نمبر ۳۰۵،ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حظر و اباحت
حرام اشیاء
2025-09-27 17:39:33

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔