شرعی سوال و جواب
کیا بیماری کی وجہ سے خاتون اپنے سر کے بال کٹواسکتی ہے؟
کیا بیماری کی وجہ سے خاتون اپنے سر کے بال کٹواسکتی ہے؟
سوال
ایک لڑکی جس کی عمر17 سال ہے،اس کے سر کے بال گررہے ہیں ،کسی بیماری کی وجہ سے۔
سوال یہ ہے کہ کیا وہ سر منڈا سکتی ہے؟تاکہ یہ بیماری ختم ہوجائے یعنی بال گرنا بند ہوجائے۔
جواب
واضح رہے کہ عام احوال میں خواتین کے لئے سر کے بالوں کا کٹوانا جائز نہیں ہے،البتہ جو بال حد سے بڑھ کر بدنما لگے،اور دیکھ بال کی حد سے بڑھ جائے تو ان کو کاٹ کر درست کیا جاسکتا ہے،بیماری کی صورت میں علاج معالجہ کے لیے عورت سر کے بال منڈوا یا کم کرواسکتی ہے،اس کی گنجائش ہے،البتہ علاج کی شدید مجبوری کے علاوہ خواتین کے لئے سرمنڈوانا ناجائز ہے۔
الدرالمختار میں ہے:
“قطعت شعر رأسها أثمت ولعنت زاد في البزازية وإن بإذن الزوج لأنه لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق.”
(كتاب الحظر والاباحة، فصل في البيع، ج:6، ص:407، ط:سعيد)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
“ولو حلقت المرأة رأسها فإن فعلت لوجع أصابها لا بأس به وإن فعلت ذلك تشبها بالرجل فهو مكروه كذا في الكبرى.”
(كتاب الكراهية وهو مشتمل على ثلاثين بابا، الباب التاسع عشر في الختان والخصاء وحلق المرأة شعرها ووصلها شعر غيرها، ج:5، ص:358، ط:دارالفكر)
فقط والله اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
حظر و اباحت
علاج معالجہ کے آداب و حدود
2025-09-26 01:49:10
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
