شرعی سوال و جواب

کیا جملہ سنت رسول کی توہین ہے، دل جب سیاہ ہو تو داڑھی کے سفید بالوں کی کیا وقعت؟

کیا جملہ سنت رسول کی توہین ہے، دل جب سیاہ ہو تو داڑھی کے سفید بالوں کی کیا وقعت؟


سوال

کیا ایسا کہنا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم  (داڑھی) کی توہین ہے؟ دل جب سیاہ ہو، تو داڑھی کے سفید بالوں کی کیا وقعت؟

جواب

احادیثِ مبارکہ میں اسلام کی حالت میں بوڑھا ہوجانے اور سفید بالوں کی فضیلت وارد ہوئی ہے، لیکن سوال میں مذکورہ جملے سے مقصد مخاطب کی بد عملی کو واضح کرنا ہے، اسے سنت رسول کی توہین کہنا درست نہیں ہے، تاہم اس طرح کے الفاظ کہنے سے احتیاط برتنا ہی بہتر ہے، معمولی الفاظ کی ہیر پھیر سے ایمان خطرے میں پڑسکتا ہے۔

سنن ترمذی میں ہے:

“حدثنا هناد قال: حدثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن عمرو بن مرة، عن سالم بن أبي الجعد، أن شرحبيل بن السمط، قال: يا كعب بن مرة، حدثنا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم واحذر، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من شاب ‌شيبة في الإسلام كانت له نورا يوم القيامة».”

(أبواب فضائل الجهاد، ج:3، ص:224، ط:دار الغرب الإسلامي)

فقط والله اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


ایمان و عقائد
انبیاء و رسل علیہم السلام
2025-10-17 15:50:10

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔