شرعی سوال و جواب

پاؤنڈ کے حساب سے کیک بنوانے کا حکم، پاؤنڈ کی مقدار

پاؤنڈ کے حساب سے کیک بنوانے کا حکم، پاؤنڈ کی مقدار


سوال

آج کل پارٹی یا خوشی کے موقع پر بیکری والے جو کیک بناتے ہیں وہ ویسے تو عام طور پر وزن کے حساب یا مقدار کے حساب سے بناتے ہیں، لیکن آج کل بیکری والے حضرات یہ کیک پاؤنڈ کے حساب سے بناتے ہیں اور گاہک بھی خود ہی اسی طریقے سے یعنی پاؤنڈ کے حساب سے آرڈر کرواتے ہیں۔ مجھے پوچھنا یہ ہے کہ کیا پاؤنڈ کے حساب  سے کیک بنوانا جائز ہے؟ نیز پاؤنڈ کی مقدار بھی بتادیں۔

جواب

واضح رہے کہ پاؤنڈ بھی کلو کی طرح وزن کی ایک خاص مقدار کو کہتے ہیں، لہٰذا جس طرح کلو کے اعتبار سے مقدار کی تعیین ہوجاتی ہے، اسی طرح پاؤنڈ کی صورت میں وزن کی مقدار طے کرنے سے بھی مبیع کی مقدار کی تعیین ہوجاتی ہے، اس لیے پاؤنڈ کے حساب سے کیک بنوانا جائز ہے۔

 ایک پاؤنڈ تقریباً 0.4536 کلو گرام کے برابر ہوتا ہے، بالفاظِ دیگر  ایک کلوگرام تقریباً 2.205 پاؤنڈ کے برابر ہوتا ہے ۔

الاشباہ والنظائر لابن نجیم میں ہے:

“‌‌القاعدة السادسة: ‌العادة محكمة.

وأصلها قوله عليه الصلاة والسلام {ما رآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن} قال العلائي: لم أجده مرفوعا في شيء من كتب الحديث أصلا، ولا بسند ضعيف بعد طول البحث، وكثرة الكشف والسؤال، وإنما هو من قول عبد الله بن مسعود رضي الله تعالى عنه مرفوعا عليه أخرجه أحمد في مسنده. واعلم أن اعتبار ‌العادة والعرف يرجع إليه في الفقه في مسائل كثيرة حتى جعلوا ذلك أصلا.”

(الفن الاول، صفحہ:79، طبع: دار الكتب العلمية)

بدائع الصنائع میں ہے:

“(ومنها) ‌أن ‌يكون ‌المبيع ‌معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة.

فإن كان أحدهما إلى المنازعة فسد البيع، وإن كان مجهولا جهالة لا تفضي إلى المنازعة لا يفسد … ولأن الرضا شرط البيع والرضا لا يتعلق إلا بالمعلوم.”

(کتاب البیوع، فصل في شرائط الصحة في البيوع، جلد: 5، صفحه: 156، طبع: دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


بیوع
بیع اور ارکانِ بیع کی شرائط
2025-10-08 08:26:19

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔