شرعی سوال و جواب
زُورآوَر نام رکھنے کا حکم
سوال
زُورآوَر نام رکھنا کیسا ہے؟ اس کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ کیا یہ عربی نام ہے؟ پوری وضاحت کرے۔
جواب
صورتِ مسئولہ میں “زُورَآوَر “اردو زبان میں طاقتور اور مضبوط آدمی کو کہتے ہیں، اس معنی کے اعتبار سے مذکورہ نام رکھنا مناسب نہیں ہے، اس کے بجائے حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموں میں سے کسی کے نام پر بچوں کے نام رکھنے چاہیے۔
فیروز اللغات میں ہے:
“زور آور: طاقت ور، قوی، زبردست.”
(ز و، ص: 756، ط: فیروز سنز لمیٹڈ)
شعب الایمان میں ہے :
“عن عطاء عن ابن عباس أنهم قالوا: يا رسول الله قد علمنا ما حق الوالد على الولد فما حق الولد على الوالد؟ قال: أن يحسن اسمه ويحسن أدبه.”
(حقوق الأولاد والأهليين، ج: 6، ص: 400، ط: دارالكتب العلمية)
شرح مصابیح السنہ للبغوی میں ہے:
“عن بريدة: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يتطير من شيء، فإذا بعث عاملا يسأل عن اسمه، فإذا أعجبه اسمه فرح به ورئي بشر ذلك في وجهه، وإن كره اسمه رئي كراهية ذلك في وجهه”، فالسنة أن يختار الإنسان لولده وخادمه الأسماء الحسنة، فإن الأسماء المكروهة قد توافق القدر، مثلا لو سمى أحد ابنه بـ (خسار) فربما جرى قضاء الله بأن يلحق بذلك المسمى به خسار، فيعتقد بعض الناس: أن ذلك بسبب اسمه فيتشاءمون به، ويحترزون عن مجالسته ومواصلته.”
(كتاب الطب والرقى، ج:5، ص:122، ط:دار المعرفة)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
حظر و اباحت
ناموں کے معانی اور احکام
2025-09-25 23:47:08
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
