شرعی سوال و جواب
vodka,whiskey نام مشروب کا حکم
سوال
میری دوست کے شوہرکو(vodka,whiskey) کی عادت ہے،جب وہ منع کرتی ہے،تو شوہر کہتا ہےکہ یہ حرام نہیں ہے۔(vine)حرام ہے،جو انگور سے بنی ہو،وہ بیوی کی بالکل نہیں سنتے ،اور بیوی کو قائل کر لیتے ہیں۔ اس کا شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب
نشہ آور چیزیں دوقسم کی ہیں: ۱:۔سیال(مائع)، ۲:۔غیرسیال(غیرمائع،جامد،خشک)
ان میں پہلی قسم کی چیزیں (جیسے شراب وغیرہ) جن کے زیادہ پینے سے نشہ ہوجاتا ہو تو اس کا ایک قطرہ پینا بھی حرام ہے، اگرچہ کم میں نشہ نہ ہو۔ اور دوسری قسم کی اشیاء (جیسے بھنگ، افیون وغیرہ) کا اتنی مقدار میں پینا جس سے نشہ پیدا ہوجائے یا ضرر شدید ہو تو وہ حرام ہے، اور اتنی مقدار کہ جس سے نشہ نہ آئے تو بلاضرورت اس کا استعمال درست نہیں، اور ضرورتاً جیسے دوا وغیرہ کے طور پر اس کے استعمال کی گنجائش ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں (vodka,whiskey) نشہ آور ہونے کی وجہ سے حرام ہے، مذکورہ خاتون کے شوہر کا یہ کہنا کہ صرف انگور سے بنی شراب حرام ہے، درست نہیں ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
“في كتاب الأشربة أن كل مسكر حرام أي كل ما أسكر كثيره حرم قليله، وهو قول محمد المفتى به.”
(مطلب في ملك ذي الرحم المحرم، ج:3، ص:651، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
حظر و اباحت
شراب / الکحل / نبیذ وغیرہ
2025-09-27 18:09:05
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
