شرعی سوال و جواب

اگر کوئی شادی شدہ ہو اور مرتد ہوجائے دوبارہ اسلام لے آئے تو دوبارہ نکاح کرنے کے بعد کتنے طلاق کا اختیار حاصل ہوتاہے؟

اگر کوئی شادی شدہ ہو اور مرتد ہوجائے دوبارہ اسلام لے آئے تو دوبارہ نکاح کرنے کے بعد کتنے طلاق کا اختیار حاصل ہوتاہے؟


سوال

 اگر کو ئی شخص کفریہ الفاظ بولے تو وہ دائرہ اسلام سے نکل جاتا ہے اور اگر شادی شدہ ہو تو اس کا نکاح بھی ختم ہو جاتا ہے، اب اگر وہ بندہ واپس اسلام قبول کرلے اور تجدید نکاح بھی کرلے تو اس نے تو اسلام بھی نیا کیا اور نکاح بھی نیا کیاتو پوچھنا یہ ہے کہ اب اس کے پاس کتنی طلاقوں کا حق ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص مرتد ہوگیا اور شادی شدہ ہواورواپس اسلام قبول کرلے اور تجدید نکاح بھی کرلے تو  وہ حسب سابق تین طلاق کا مالک رہے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

“وارتداد أحدھما أي: الزوجین فسخ فلا ینقص عدداً.”

( کتاب النکاح، باب نکاح الکافر، ج:3،ص:193،ط:دارالفكر)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


طلاق
طلاق – وقوع اور عدم وقوع
2025-10-17 19:33:25

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔