شرعی سوال و جواب

حدیبیہ نام رکھنے کا حکم

سوال

حدیبیہ نام رکھنا کیسا ہے؟ میری بیٹی کانام حدیبیہ ہے عمر 6 سال ہے، بےفارم بھی بن چکا ہے، اگر نام صحیح نہ ہو توتبدیل کرنا ضروری ہے؟

جواب

واضح رہے کہ “حدیبیہ” حدب سے ہے، اس کا معنی ہے: ‘کسی چیز کا بلندہونا، ابھرا ہواہونا، بلند زمین، کمر کا ابھار، کبڑا پن’ نیز یہ کہ “حدیبیہ” ایک مخصوص جگہ کا نام ہے، کسی انسان کا نام نہیں ہے۔

لہذا مذکورہ نام کے بجائےبہتر یہ ہے کہ  صحابیات رضی اللہ عنہن یا نیک خواتین کے ناموں میں سے کسی کا نام رکھا جائے۔

اگر تبدیل کرنا ممکن ہو تو بہتر یہی ہے کہ کاغذات میں تبدیل کردیا جائے، لیکن اگر تبدیل کرنے میں حرج ہو تو پھر کاغذات میں تبدیل کرانا ضروری نہیں ہے، البتہ پکار نے کے لیےکوئی اور اچھا نام رکھ لیا جائے۔

المعجم الوسیط  میں ہے:

“(الحدب) ما ارتفع وغلظ من الأرض وفي التنزيل العزيز {وهم من كل ‌حدب ينسلون} ونتوء في الظهر.”

(‌‌باب الحاء، ج: 1، ص: 159، ط: ودار الفكر)

القاموس الوحید میں ہے:

“حدبت الأرض ۔ حدباً: زمین کے کچھ حصہ کا ابھرا ہوا ہونا۔

الحدب: بلند زمین۔ (2) کوب، کمر کا ابھار کبڑا پن۔”

(باب الحاء، ص: 265، ط: ادارہ اسلامیات)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حظر و اباحت
ناموں کے معانی اور احکام
2025-10-12 14:52:33

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔