شرعی سوال و جواب

عورت کا قاضی/ جج کے سامنے چہرے کا پردہ کیے بغیر جانا

عورت کا قاضی/ جج کے سامنے چہرے کا پردہ کیے بغیر جانا


سوال

 ہم علماء کرام امریکہ میں ایک شریعہ کونسل کی حیثیت سے  اسلامی عدالت کے ماتحت لوگوں کی رہنمائی کا کام کرتے ہیں،  خواتین اکثر اپنے شوہروں سے متعلق شکایات لے کر کونسل میں آتی ہیں، کونسل صلح کی کوشش کرتی ہے، لیکن کبھی مختلف اسباب کی بنیاد پر نکاح کو فسخ بھی کرتی ہے،  کونسل میں 20سے50 اراکین علماء شرکت کرتے ہیں، جن میں سے 3سے4 کونسل کے سربراہ علماء بزرگ ہیں،  جو سامنے بیٹھ کر بحث کی قیادت کرتے ہیں، اور  وہ ہی زیادہ تر گفتگو کرتے ہیں، حالاں کہ دوسرے اراکین بھی سوالات کرتے ہیں،  جب کہ خواتین اور شریعہ کونسل کے ارکان کے درمیان کوئی حجاب يا ديوار نہیں ہے، ہم ان  کو آنے سے پہلے شریعت کے مطابق لباس پہنے کی ہدایت دیتے ہیں، لیکن اکثر خواتین اپنا چہرہ نہیں ڈھانپتیں،  اگرچہ جسم كے دوسرے تمام اعضاء  اور سر کے بال  عام طور پر مستور رہتے ہیں، ان کیسیز کے دوران ہم عام طور پر خواتین کے شناختی کارڈ یا پاسپورٹ کو نہیں دیکھتے( تا کہ شناخت کنفرم ہو)،  البته بعض اوقات ہم عورت کی گواہی کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں،  ہم جاننا چاہتے ہیں کہ اس صورت حال کی   اجازت ہے یا نہیں کہ عورتیں بغیر پردہ کے  مردوں کے سامنے  اپنے معاملات بیان کرتی ہیں،  کیا ہمیں انہیں پردے کے پیچھے بٹھانا چاہیے تاکہ وہ کسی کو نظر نہ آئیں یا صرف کونسل کے سربراہوں کو نظر آئیں؟

جواب

واضح رہے کہ مرد کا بلاضرورتِ شرعیہ  عورت سے بات چیت کرنا منع ہے، اگر ضرورت پڑجائے تب بھی پردہ کی حالت میں بقدر ِ ضرورت گفتگو کی گنجائش ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں  بغیر پردہ کے مردوں کا عورتوں کے معاملات سننا شرعاً جائز نہیں ،سائل اور دیگر حضرات کو چاہیے کہ وہ عورتوں کے معاملات سننے اور حل کرنے کے لیے ایسی ترتیب بنائیں اور ان کو ایسی جگہ بٹھائیں  کہ کم ازکم عورتیں مردوں کو  نظر نہ آئیں،اور شرعی پردہ کا مکمل طور پر اہتمام ہو۔

البتہ کسی  عورت کا معاملہ  عدالت/ شرعی کورٹ میں چل رہا ہو یا  کسی عورت سےگواہی لینی ہو   تو اس کے لیے قاضی/ کونسل کے سربراہوں  کے سامنے   بقدرِ ضرورت چہرہ کھولنے کی گنجائش ہے۔

تفسیر قرطبی میں ہے:

” قولہ : وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن ۔۔۔ فأمر الله سبحانه وتعالى المؤمنين والمؤمنات بغض الأبصار عما لا يحل، فلا يحل للرجل أن ينظر إلى المرأة ولا المرأة إلى الرجل، فإن علاقتها به كعلاقته بها، وقصدها منه كقصده منها. وفي صحيح مسلم عن أبي هريرة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: (إن الله كتب على ابن آدم حظه من الزنى أدرك ذلك لا محالة فالعينان تزنيان وزناهما النظر … ) الحديث. وقال الزهري في النظر إلى التي لم تحض من النساء: لا يصلح النظر إلى شي منهن ممن يشتهى النظر إليهن وإن كانت صغيرة.”

(سورۃ النور، آیة:31، ج:12، ص:226، ط: دار الكتب المصرية)

فتاوی شامی میں ہے:

“فإنا نجيز الكلام مع النساء الأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولانجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها؛ لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن، وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة.”

(کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ ،ج:1،ص؛406، ط: سعید)

 درر الحكام شرح غرر الأحكام میں ہے: 

(لا ينظر إلى وجهها إلا لحاجة) لقوله صلى الله عليه وسلم «من نظر إلى محاسن امرأة أجنبية عن شهوة صب في عينيه الآنك يوم القيامة» فإذا خاف الشهوة لم ينظر من غير حاجة تحرزا عن المحرم (كقاض يحكم عليها وشاهد يشهد عليها) فإن نظرهما إلى وجهها جائز، ‌وإن ‌خاف ‌الشهوة للحاجة إلى إحياء حقوق الناس بالقضاء وأداء الشهادة ولكن ينبغي أن يقصد به الحكم عليها وأداء الشهادة لا قضاء الشهوة تحرزا عن قصد القبيح.”

 (فصل عورة الرجل والمرأة، ج:1، ص:314، ط:دار إحياء الكتب العربية)

فقط والله اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حظر و اباحت
ستر اور حجاب کی حدود
2025-11-25 22:35:54

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔