شرعی سوال و جواب
پانی میں پرندہ گر کر مرجائے اور پھول جائے تو اس پانی کا حکم
پانی میں پرندہ گر کر مرجائے اور پھول جائے تو اس پانی کا حکم
سوال
جب کہ پانی میں پرندہ گر کر مر گیا اور پھول پھٹ بھی گیا، تو معلوم یہ کرنا ہے کہ آدمی کو پھر نہانا پڑے گا کہ نہیں جو کہ اس پانی سے نہا لیا تھا؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں سائل نے واضح نہیں کیا کہ کون سے پانی میں پرندہ گر کر مرا؟ کنویں میں یا ٹینک میں ؟یا جاری پانی میں ؟
بہرحال اگر کسی ٹینک میں پرندہ گرا اور اس ٹینک کا پانی قلیل ہے ( کہ اس کا سائز دہ در دہ یعنی ایک سو مربع ہاتھ / 225 اسکوائر فٹ سے کم ہے)،اور اس میں پرندہ گر کر پھول پھٹ گیا تو وہ پانی نجس / ناپاک ہوگیا، لہذا نجس پانی سے غسل کرنے کی صورت میں دوبارہ غسل کرے، تاکہ پاک ہوجائے۔
اور اگر یہ صورت نہیں ہے تو وضاحت کے ساتھ اس کی مقدار لکھ کر دوبارہ جواب طلب کرلیں۔
شرح مختصر الطحاوی میں ہے:
والدليل على تحريم استعمال الماء الذي فيه جزء من النجاسة وإن لم يتغير طعمه أو لونه أو رائحته، قول الله تعالى: “ويحرم عليهم الخبائث”، والنجاسات من الخبائث؛ لأنها محرمة۔
(کتاب الطهارة، باب تکون به الطهارة، مسألة: النجاسة في الماء القلیل والکثیر: 1/ 239، ط: دار السراج المدینة المنوّرة)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
طہارت
پانی کے متفرق احکام
2025-09-27 13:59:53
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
